اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یہ دھماکہ صوبہ بلوچستان کے خضدار ضلعے میں واقع شاہ نورانی کے مزار میں ہوا ہے جس میں کم سے کم تیس افراد جاں ہوگئے ہیں۔ سو سے زائد افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔جاں بحق افراد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔انتظامیہ کے مطابق شاہ نورانی کے عرس کی وجہ سے مزار میں پانچ سو کے قریب افراد موجود تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقے کی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔وزیر داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے رات اور اندھیرا ہونے کے باعث زخمیوں کو ہیلی کاپٹر سے منتقل نہیں کیا جاسکتا۔کمشنر خضدار کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خودکش لگتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد ہی اس بات کا تعین کیا جاسکے گا کہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا یا خودکش حملہ تھا۔ تاحال کسی شخص یا گروہ نے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم بلوچستان میں عام طور پر تکفیری دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہ عام شیعہ اور سنی مسلمانوں اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169